چارلی کی لاش کیوں اغواہ ہوئی

چارلی کی اپنی آخری فلم ا ے کاؤنٹیس فرام ہانگ کانگ تھی جو کہ 1960 میں‌بنی اس کے بعد چارلی کی طبیعت خراب ہوئی 1972 میں‌ان کو اکیڈًی ایوارڈ دیا گیا جس کے بعد ان کی صحت مزید گر گئی . اس خرابی صحت کی وجہ سے بول چال اور چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے . اور 25 دسمبر کو دنیا کو ہنسانے والا اس دنیا فانی سے منۃ‌موڑ کر چلا گیا . ان کےزندگی کے آخری ایام سویزر لینڈ میں‌ ایک پر فضا مقام پر گزرے . موت کے وقت جب پادری نے اسے حوصلہ دیا اور کہا کہ خدواند تم پر رحم کرے تو چارلی نے کہا کیوں‌نہیں‌یہ روح‌بھی تو اسی کی ہے ‘یہ ان کے آخری لفاظ تھے .

چارلی چپلن کو کورسیئر سر ویوی قبرستان، واؤڈ ، سوئٹزرلینڈ میں دفن کیا گیا۔ ابھی چارلی چپلن کو گزرے تین مہینے ہی گزرے تھے اور چارلی چپلن کے جانے کا غم انکے مداحوں کے لیے ابھی تازہ ہی تھا کہ انہیں ایک اور ناقابل برداشت بری خبر کا سامنا کرنا پڑا۔یکم مارچ 1978 کو سوئٹزرلینڈ میں جنیوا لیک کے مقام پر اغوا کی ایک واردات عمل میں آئی۔ سویس کاریگروں کے ایک گروہ سے تعلق کھنے والے دو اغواکاروں نے جو کہ ان دنوں بیروزگار تھے انہوں نے ایک منصوبے کے تحت دنیا کی مشہور ترین لاش چرا لی، اور وہ لاش چارلی چپلن کی تھی۔ اغواکار چوروں نے ان کے خاندان سے ناجائز طور پر رقم ہتھیانے کے لیے لاش چرائی تھیں۔جو کہ واپس کرنے کے بدلے میں انہوں نے چھ لاکھ سوئس فرانک طلب کیے تھے۔ یہ صورت حال اتنی مضحکہ خیز تھی کہ اْن کی کسی فلم کا حصہ معلوم ہوتی تھی لیکن پولیس کی مسلسل کوششوں سے یہ سازش ناکام ہوگئی چارلی چپلن کو 11 ہفتوں کے بعد جھیل جنیوا کے قریب سے برآمد کرلیا گیا۔ اور چوروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اور پھر چارلی چپلن کی لاش کو دوسری جگہ گہری قبر میں دفنایا گیا تھا۔ اور قبر پر چھ فٹ موٹی کنکریٹ کی تہہ ڈال دی گئی تاکہ مستقبل میں کوئی دوبارہ ایسی کوشش نہ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں