بسوں کی ہوسٹس کے بارے میں جان کر شاید پھر آپ کچھ غلط نہ سوچیں‌

کچھ دن پہلے میرا لاھور کا سفر تھا. مقررہ دن سے ایک دن پہلے میں نے ادھراسلام آباد میں ایک بسسروس کو کال کی تاکہ ابھی سے میری سیٹ کنفرم ہو جائے
اس کا مجھے یہ فائدہ ہو ا کہ مجھے کشادہ سیٹ ملی جو کہ ہوسٹس کے ساتھ ہوتی ہے .خیر وقت مقررہ پر میں وہاں گیا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا . اس دوران مسافر آتے رہیں‌جب گاڑی کے نکلنے کا وقت پورا ہوا تو میں نے مڑ کر دیکھا تمام مسافر مکمل تھے .کچھ دیر بعد لڑکی نے سب مسافروں کی توضع کولڈ ڈرنکس اور سنیکس سے کی اس کے بعد میرے پاس آئی او ر کولڈ ڈرنک نکالی اور مجھے پیش کر دی. ایک مسکراہٹ کے ساتھ اسکا شکریہ ادا کیا. اور کولڈ ڈرنک پیا. پھر نمکو بھی ملی. جب موٹروے پر آئے تو اسنے کیک اور جوسز پیش کئے. اس کے بعد وہ اپنی سیٹ پر آئی اور بیٹھ گئی . اس دوران میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو مجھے لگا کہ اس کی عمر بہت کم ہے میں‌نے اس سے اس کی عمر کا پوچھا تو جو اس نےجواب دیا تو زور کا جھٹکا لگا اس نے مجھے بتایا کہ “سر میری عمر 15 سال ہے جب کہ مجھے

20000 روپے تنخواہ دی جاتی ہے . اتنی کم عمر اور یہ ملازمت . میں نے پو چھا کہ تم کو کتنا عرصہ ہوا. ملازمت کرتے ہوئے. بولی کہ میرا ابھی پہلا مہینہ ہے. اور یہ سروس بھی ابھی ہی شروع ہوئی ہے. میں نے پوچھا کہ ملازمت کرنے کی کوئی خاص وجہ. وہ بولی کہ ابو فوت ہو گئے ہیں. اور گھر کے حالات ٹھیک نہیں ہے. جسکی وجہ سے ملازمت کر رہی ہوں. اور تعلیم پوچھنے پر پتہ چلا کہ ابھی میٹرک کا رزلٹ بھی نہیں آیا. اور گھر کے حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دی ہے. میں نے جب پوچھا کہ لوگوں کا تمھارئے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے. تو اس بچاری کی آنکھوں میں آنسوآگئے. اور کچھ نہ آگے بول سکی تو میں ساری بات سمجھ گیا. حوصلے کے لیے میرے پاس الفاظ بھی نہیں تھے کہ اسکو حوصلہ دے سکوں. بس اسکے سر پر ہاتھ ہی رکھ دیا. جب ہاتھ رکھا تو اسکی آنکھوں میں سے پانی اسکی رخصار پر بہہ گیا. آپ سب بھائیوں کہ بتا دوں. کہ گاڑیوں میں موجود ہوسٹس بھی ہماری بہن اور بیٹی ہوتی ہے. کسی لڑکی کو شوق نہیں ہوتا کہ وہ ملازمت کرے. مجبوریاں انسان کی بہت کچھ کروا دیتی ہے. آپ انکی پیسوں سے مد د نہیں کر سکتے نہ ہی وہ آپ سے پیسے مانگے گے. کم از کم اپ انکی عزت تو کرئے. ان سے احترام سے پیش آیا کرئے. یہ غریبوں کی بیٹیاں ہوتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں