سال کے اس ماہ آسمان پر نادر ترین واقعہ پیش آنے والا ہے .

اللہ کی کائنات انتہائی وسیع ہے اور انسان اپنی تمام تر طاقتوں کے باجود اب تب جتنا جان چکا ہے وہ ایسے ہی ہیں‌جیسے سمندر اور ایک پانی کا قطرہ . ہمارے نظام شمسی میں‌زمیں‌کے ساتھ اور بھی سیارے ہیں جو سورج کے ارد گرد گھوم رہے ہیں‌. ان میں سے ایک مشتری بھی ہے جو کہ زمیں‌کو پڑوسی ہے . لیکن کروڑوں کلومیٹرکی دوری پر لیکن اس ماہ یہ دوریاں ختم ہونے جارہی ہے اور مشتری زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا . جسے دیکھنے کے لئے پوری دنیا کے ماہرین فلکیات انتظار کر رہے ہیں‌


امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے بتایا ہے کہ ہر دو سال بعد مشتری، زمین اور سورج ایک سیدھ میں آ جاتے ہیں۔ اس ترتیب میں زمین، مشتری اور سورج کے درمیان میں ہوتی ہے۔ ان دنوں ایک بار پھر تینوں ایک سیدھ میں آنے جا رہے ہیں اور مئی کا پورا مہینہ مشتری زمین کے قریب ترین رہے گا۔ناسا کے مطابق رواں ہفتے مشتری کا زمین سے فاصلہ صرف 66 کروڑ کلومیٹر رہ جائے گا،اور اس کے بعد بتدریج اس میں اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس وقت تینوں ایک سیدھ میں ہیں اور زمین کا مشتری سے فاصلہ کم ترین ہے۔

دو سال قبل جب مشتری اس پوزیشن میں آیا تھا، اس کی نسبت رواں سال 80 لاکھ کلومیٹر مزید زمین کے قریب ہو گا اور ان دونوں سیاروں میں اتنی قربت کئی سالوں کے بعد ہونے جا رہی ہے۔
میلبرن یونیورسٹی کی ماہر فلکیات تانیا ہل کا کہنا ہے کہ جب مشتری سورج کے بالکل مخالف سمت میں آتا ہے تو ان دونوں کی زمین کے ساتھ یہ پوزیشن ہوتی ہے کہ تینوں سیدھ میں آ جاتے ہیں۔ اس سال مشتری سیدھ میں آنے کے بعد جتنا بڑا اور روشن نظر آ رہا ہے، کئی سالوں سے اتنا نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں