چائے کا استعمال کیسے شروع ہوا جانئیے ایک دلچسپ تاریخ

چائے ہمارے معاشرہ کا ایک جز لاینفک ہے آپ جہاں‌بھی جاتے ہیں‌آپ کو چائے پیش کی جاتی ہے . حتی کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کی ابتدا بھی چائے سے ہوتی ہے آپ باہر دوست سے ملے تو چائے . گھر تھکے ہوئے جائے تو چائے . مہمان بن گئے تو چائے . میزبان بن گئے تو چائے . کھانے کے بعد چائے . ناشتہ میں‌چائے سر درد ہے تو چائے حتی کے ایسا لگتا ہے کہ ہمارا مقصد زندگی بس چائے پینا رہ گیا ہے . کیا آپ نے کبھی سوچا ہےکہ چائے کی ابتدا کہاں‌سے ہوئی اس کے پودے کو کیسے دریافت کیا گیا . اس کے دریافت کے بارے میں‌طرح طرح‌کی کہانیاں‌منسوب ہے کسی نے اسے مذہبی رنگ دیا تو کسی نے ماورائی مخلوق کی باتیں‌سنانی شرو ع کی . لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک چرواہے نے چائے کا ہودا دریافت کیا . روزمرہ کے معمول کے مطابق جب چرواہا اپنی بکریوں‌کو لے کر جنگل گیا تو اس نے وہاں ایک نئی قسم کا پودا دیکھا اس نے اس کے پتے توڑے اس اسے چبایا تو اسے عجیب سے ذائقہ کا احساس ہوا جس کے

بعد اس گاؤں‌لے کر آیا یہاں‌سے چائے پھیل گئی . ایک روایت کے مطابق چائے کی ابتدا کچھ ایسی ہوئی کہ چین کا ایک شہنشاہ شینانگ ہمیشہ پانی ابال کرپیتا تھا ایک دفعہ وہ شکار کیلئے جنگل میں گیا۔ وہاں اس کا خادم پانی ابال رہا تھا۔ قریب ہی سوکھی ٹہنیوں کی آگ جل رہی تھی کہ سوکھی ٹہنی کے چند خشک پتے پانی کی کیتلی میں گر گئے۔پتوں کی وجہ سے پانی کارنگ قدرے رنگین ہو گیا۔ جلدی میں پانی شہنشا نے پی لیا۔ شہنشاہ کوپانی کا ذائقہ پسند آیا۔ چنانچہ شہنشاہ شینانگ نیان جھاڑیوں کے بیج جمع کرنے کاحکم دے دیا۔ یہ دنیا میں چائے کا پہلا گھونٹ تھا جوشہنشاہ شینانگ نے پیا۔جلد ہی چائے چین کی ثقافت بن گئی۔ چھٹی صدی عیسوی میں چائے کا پھیلاؤ جاپان کی طرف ہوا۔ 800ء تک ایک ذین بدھ راہب چائے کے استعمال پرتفصیلی تاریخ لکھ چکا تھا اور چونکہ ذین بدوں کا خیال تھاکہ چائے روانی ارتکاز میں مدد دیتی ہے۔اس لئے یہ مشروب ان کی مذہبی رسومات کا حصہ بن چکا تھا۔ بدھ

مشنری لوگ جب جاپان گئے تو اپنے ساتھ چائے بھی لے گئے چائے کی دیو مالائی داستان میں وہ وقت بھی آیا جب کچھ بھارتی اور جاپانی بدھوں نے چائے کا استعمال مہاتما بدھ کی کہانی بیان کرنے کے لئے کیا۔ان کے مطابق مہاتما بدھ پانچ سال بعد جب مراقبے سے جاگے تو انہوں نے چائے کے جنگلی درخت کے پتے کھائے۔جاپان میں تعارف کے بعد جلد ہی وہاں پر چائے کی ثقافت اور چائے کی رسم ”چاؤ تو یو“ نے جنم لیا جس کے لفظی معنی چائے کیلئے گرم پانی ہے۔آج کل اکثر لوگوں کا خیال ہےکہ چائے پینے سے معدہ میں‌تیزابیت پیدا ہوتی ہے . حالانکہ یہ تصور غلط ہے اور ماہرین طب کے مطابق چائےکی تیزی کی وجہ سے اس کا احساس ہوتا ہے ورنہ اس کا معدہ پر کوئی اثر نہیں‌ہوتا 13ویں عیسوی میں بدھ راہبوں نے چائے کو اس کی اصلی ذین ترکیب استعمال کی طرف لانے کی ناکام کوشش کی۔1560ء میں جب پرتگالی مشنریوں نے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کئے تو یورپ میں چائے درآمد کی جانے لگی۔ کچھ تاریخ دان اس کی مخالفت کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایک سال پہلے عرب تاجر چائے اٹلی کے شہر وینس میں لاچکے تھے۔


برطانیہ میں چائے کی تجارت 1652ء میں ہوئی۔ 1652ء میں چائے پہلی دفعہ انگلینڈ کے کافی خانوں کو فروخت کی گئی۔ جلد ہی یہ برطانیہ کاقومی مشروب بن گیا۔ 1700ء تک برطانیہ دو لاکھ 40ہزار پاؤنڈ چائے برآمد کر رہا تھا۔ چائے کی وجہ سے انگریزوں کی روز مرہ زندگی میں ایک خوشگوارتبدیلی آئی اورسہ پہر کی چائے کا رواج عام ہوا۔برطانوی تجارتی کمپنیاں چائے کی برآمد کے لئے سارے یورپ میں مشہور ہوئیں۔ ان میں لپٹن اور بروک بانڈ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی چائے کی برآد میں اہم کردار ادا کیا برصغیر پاک و ہند میں چائے کی کاشت 1823ء میں شروع ہوئی۔ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں سیاسی عدم استحکام کابہانہ بناتے ہوئے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ اس کی وجہ سے تجارت کو نقصان ہو رہاہے۔

آہستہ آہستہ انہوں نے بھارت کو پوست اگانے پر مجبور کیا۔ جس کے بدلے وہ چین سے چائے خریدتے تھے۔اس طرح انگریز اصل سرمایہ اپنی سلطنت تک ہی محدود رکھتے۔ پوست کے بدلے چائے کی اس تجارت کی وجہ سے 18ویں صدی عیسوی میں جنگ افیوین ہوئی جس کے بعد انگریز مکمل طورپر چائے کی تجارت پرقابض ہو گئے۔ 19ویں صدی میں یورپ اور امریکہ کی معاشرتی تحریکوں میں چائے نے اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں