مستقبل کا ایسا شہر جو پانی پر تیرتا ہوا نظر آئے گا

ایک ایسے تیرتے ہوئے ملک کا تصور سب سے پہلے پے پال کے بانی پیٹر تھیل نے پیش کیا تھا اور اب جبکہ اس منصوبے پر کام شروع ہوچکا ہے یہ جزیرہ نما ملک تاہیٹی کے جزیرے کے قریب تیرتا ہوا نظرآئیگا۔ چاروں جانب سمندر میں گھرے ہوئے ملک میں 300مکانا ت ہونگے جبکہ کچھ ریستوران، دفاتر قائم کئے جائیں گے۔ منصوبے سے تعلق رکھنے والے ذرائع کاکہناہے کہ یہ اپنی قسم کا پہلا ملک ہوگا ۔ایک ایسے تیرتے ہوئے ملک کا تصور سب سے پہلے پے پال کے بانی پیٹر تھیل نے پیش کیا تھا اور اب جبکہ اس منصوبے پر کام شروع ہوچکا ہے یہ جزیرہ

نما ملک تاہیٹی کے جزیرے کے قریب تیرتا ہوا نظرآئیگا۔ چاروں جانب سمندر میں گھرے ہوئے ملک میں 300مکانا ت ہونگے جبکہ کچھ ریستوران، دفاتر قائم کئے جائیں گے۔ منصوبے سے تعلق رکھنے والے ذرائع کاکہناہے کہ یہ اپنی قسم کا پہلا ملک ہوگا ۔اس کی اپنی حکومت ہوگی اور ملک کا آئین و قانون بھی بنایا جائیگا جبکہ اسکے لئے جس کرنسی کی بات کی جارہی ہے۔ وہ کرپٹو کرنسی قسم کی چیز ہے جسے ویرون کہا جاتا ہے۔ امید ہے کہ منصوبے پر جو5کروڑ ڈالر لگائے جارہے ہیں وہ ابتدائی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ واضح ہو کہ پولینیشیا کی

حکومت مختلف ماہرین تعلیم ، مخیر حضرات اور سرمایہ کاروں کے تعاون سے آئے دن عجیب و غریب منصوبوں پر کام کرتی رہتی ہے جنہیں دیکھ کر دنیا حیران رہتی ہے۔ اس تیرتے ہوئے ملک پر عالمی سیاست کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور نہ ہی بین الاقوامی تجارتی معاملات سے اسکا کوئی تعلق ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ عرصے بعد یہ ملک پناہ گزینوں کا مرکز بن جائے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں