میرے پاس خود رزق چل کر آتا ہے

کہتے ہیں‌کہ ایک جوان کام کی تلاش میں‌پھرتا رہا لیکن اسے کوئی کام نہیں‌مل رہا تھا اپنی قابلیت پر اسے بہت ناز تھا لیکن جب بھی کہیں‌جاتا تو اسے کام دینے کے بجائے کسی اور کو دیا جاتا . بے چارہ پریشان ہوگیا . ایک دن ایک مسجد میں‌گیا تو مولوی صاحب توکل پر بیان فر ما رہے تھے . مولوی صاحب نے توکل کے کچھ ایسے قصے سنائے کہ اس جوان کا دل ہی بدل گیا گھر گیا اور والد سے کجہا میں‌آج کے بعد کام نہیں‌کروں گا میری قسمت میں‌جو لکھا ہوگا وہ مجھے مل جائے گا تو میں‌خود کو بلا وجہ تکلیف میں‌کیوں‌ڈالوں‌ اسی سوچ کے ساتھ یہ جوان صبح کی سیر کے لئے نکلا،سیر کے بعد گاؤں کے قریب سے گزرنے والی نہر کےجا کر بیٹھ گیا۔ابھی بیٹھے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دیکھا ایک پتہ نہر میں نیچے کی طرف بہتا ہوا آ رہا ہے۔

چھلانگ لگا کر پتہ پکڑا تو یہ کیا دیکھتا ہے کہ پتے پر دو نان اور ان پر حلوہ پڑا تھا۔واہ خدایا! واقعی رزق تو کھانے والے تک خود پہنچتا ہے۔حلوہ کھایا بہت لذیذ تھا، پیٹ بھر کر واپس گھر آ گیا،ظہر کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔ ایک بار پھر حلوہ اور نان پتے پر آتے نظر آئے، اٹھائے اور کھا لئے۔مغرب کی نماز کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا۔ اس بار بھی وہی ہوا۔واہ! رات کے کھانے کا انتظام بھی ہو گیا۔اب روزانہ فجر، ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد نہر کنارے جا کر بیٹھ جاتا اور بلا ناغہ نان اور حلوہ مل جاتے۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ایک دن خیال آیا کہ دیکھوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح یہ نان اور حلوہ بھجواتا ہے. اسی سوچ میں صبح کی نماز کے بعد نہر کی اوپری طرف چل پڑا۔ کچھ کلومیٹر ہی گیا ہو گا کہ دیکھا،ایک بابا جی ہیں جو نان اور حلوہ لئے نہر کنارے بیٹھے ہیں۔قریب جا کر دیکھا۔۔ تو بابا جی نان کے اندر حلوہ رکھتے اور پھر اس گرم گرم حلوے سے اپنی ٹانگ پر نکلے ایک پھوڑے کو ٹکور کرتے، پھر ایک پتے پر نان اور حلوہ رکھ کر نہر میں بہا دیتے۔جوان کا دل ایک دم خراب ہونا شروع ہو گیا۔ ابکائیاں آنے لگیں کیا میں اتنے دنوں سے یہ حلوہ اور نان کھا رہا تھا؟بابا جی سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے؟ بابا جی بولے:

کئی دنوں سے یہ پھوڑا نکلا ہوا تھا۔جس کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔حکیم کے پاس گیا تو حکیم نے مشورہ دیا کہ روزانہ دن میں تیں بار سوجی کے حلوے کو نان پر رکھ کر اس کی ٹکور کروں، سو میں فجر، ظہر اور مغرب کے بعد ادھر آ جاتا ہوں۔نان اور حلوے کی ٹکور کے بعد نان اور حلوے کو پتے پر رکھ کر نہر میں بہا دیتا ہوں تاکہ خراب ہونے کی بجائے چرند پرند اور مچھلیاں ہی کھا لیں.

بے شک اللہ رزق دینے والا ہے اور ہر انسان کا رزق اس نے متعین کر دیا ہے لیکن ساتھ میں انسان کو اختیار بھی دے ڈالا کہ اس پر ہے کہ وہ حلال رزق کماتا ہے کہ حرام کے پیچے جاتا ہے اور محنت کرکے کماتا ہے یا پھر اس جوان کی طرح . اس لئے توکل ضرور کریں‌لیکن کام کرنے کےبعد .

اپنا تبصرہ بھیجیں