مسلم لیگ ن کے رہنما کو 20 سال قید کی سزا

ٹیکسلا کی عدالت نے 13 سالہ لڑکی سے ریپ کرنے اور لیڈی ڈاکٹر سے اسقاط حمل کرانے کے مقدمے میں نامزد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنما کو مجرم ثابت ہونے پر 20 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
تفصیلات کے مطابق عدالت نے اسقاط حمل کرنے والی نجی کلینک کی لیڈی ڈاکٹر کو 3 سال قید کی سزا سنائی جبکہ مقدمہ میں ملوث مرکزی ملزم اشفاقٓ کے 2 بھائیوں عامر اور آصف کو عدم ثبوت فراہمی پر بری کر دیا۔
یاد رہے کہ ملزمان عبوری ضمانت پر تھے جنہیں عدالت کے باہر سے پولیس نے گرفتار کیا اور جیل منتقل کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔
ایڈیشنل اینڈ سیشن جج ٹیکسلا ملک احمد ارشد محمود جسرا نے مذکورہ حلیمہ سعدیہ ریپ کیس میں 3 سال بعد فیصلہ سنایا۔
مقدمہ متاثرہ لڑکی کی والدہ مصباح ساجد کی مدعیت میں تھانہ واہ صدر میں درج ہوا تھا جس مییں نامزد ملزمان اشفاق، عامر، آصف اور لیڈی ڈاکٹر طلعت تھے۔
مدعیہ مصباح ساجد نے پولیس کو بتایا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنما اشفاق نے ان کی بیٹی کو گھر بلا کر اس سے اسلحے کے زور پر 3 مرتبہ ریپ کیا، انہوں نے مزید کہا تھا کہ ریپ کرنے کے دوراں اشفاق کے دونوں بھائی عامر اور آصف بھی شریک جرم ہیں۔

مصباح ساجد نے پولیس کو بیان دیا کہ مرکزی ملزم اشفاق اس کے خاوند کا ماموں زاد بھائی ہے۔
مدعیہ نے پولیس کو یہ بھی بتایا تھا کہ ملزمان کی جانب سے ریپ کے باعث ان کی بیٹی حاملہ ہوگئی تھی جس کے بعد ملزم اشفاق نے ٹیکسلا میں ایک لیڈی ڈاکٹر طلعت کو بھاری رقم دے کر اس کا حمل ضائع کرایا۔

پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد انہیں گرفتار کرلیا تھا تاہم بعد میں ملزمان کو عدالت سے ضمانت مل گئی تھی، جس پر انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

مدعیہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اشفاق کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا بلکہ مسلم لیگ (ن) کا رہنما ہونے کی وجہ سے پولیس ملزمان کا مسلسل ساتھ دے رہی ہے۔