یہ سب 12 سال کی عمر سے شروع ہوا، 16 سالہ لڑکی سے 43 ہزار مرتبہ زیادتی کا شکار

اس افسردہ کہانی کی شروعات تب ہوئی جب ایک 12 سالہ کم عمر لڑکی کو ایک ایسے مرد سے محبت ہوا جو اس سے عمر میں کئی سال بڑا تھا ۔ اس محبت کی ابتدا زندگی خوشحال زندگی کے خواب سے ہوئی لیکن اس کا انجام ایک ڈروانے خواب میں بدلاکاش کہ اس نو عمر لڑکی کو شروع میں پتا چل جاتا کہ جسے وہ خوابوں کا شہزادہ سمجھتی ہے دراصل وہ ایک حیوان ہے جو اس کے خوابوں کو روندھے چلا ہے
ہر نوخیز جوان لڑکی کی تمنا ہوتی ہے کہ اسے خوابوں کا شہزادہ ملے جو اسے دور کہی محبت کی وادیوں میں لے جائے جہاں خؤش و خرم زندگی کی ابتدا ہو اور یہ کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ کچھ لوگوں کو اپنی منزل مل جاتی ہے اور کچھ ہمیشہ کے لئے سینے کے داغ لئے زندگی گزارتے ہیں ۔

thesun.co.uk

جب ایک معصوم کےخواب چکنا چور ہوئے

کارلا ایک ایسی لڑکی تھی جس کی آنکھ غربت میں کھلی اپنے چاروں طرف ایسے بھوکے ننگے اور غریب لوگ نظر آتے اس کے دل میں ہر لڑکی کی طرح فطری جذبہ پیدا ہوا کہ کہی سے کوئی شہزادہ آئے اور اسے اس غریبی سے نجات دلائے ۔ اسی جذبہ نے اسے ایک ایسے شخص سے متعارف کرایا جو ایک دلال تھا جس کا کام معصوم لڑکیوں کو ورغلانہ اور انہیں جنسی درندوں کے بازار میں بیچنا تھا ۔کارلا کے ساتھ بھی یہی ہوا اس آدمی نے اسے ہر طرح کے وعدہ کئے دلاسے سئے کہ زندگی کے ہر موڑ پر اس کا ہاتھ تھامے رکھے گا اور کبھی اسے تنہا نہیں چھوڑے گا اور شادی کے بعد وہ ایک نئی خوشی بھری زندگی شرووع کرئیں گے لیکن اس کا یہ فیصلہ اور اس کی یہ بچگانہ محبت اسے مصٰبت کے غار میں گرا بیٹھی

likemag.com

خوابوں کی چکنا چور دنیا میں گھسیٹتی زندگی

اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ جسے سپنوں کا شہزادہ سمجھ بیٹھی ہے وہ دراصل ایک دلال ہے جو نوجوان اور معصوم بچیوں کو ورغلا کر بازار حسن میں بیچ ڈالتا کیا یہ کم تھا کہ اس کے خواب بکھر گئے تھے کہ اس پر اسے حکم ملا کہ اپنا بدن بیچ کر اپنے خواب جھولے میں لے کر اس کے لئے جینے کا سامان کرے اور اسے ایسا کرنا پڑا انکار کی گنجائش کہا تھی کہا کچھ وقت کی تکلیف اور کہا وہ بھیانک سزائیں جو اسے عاشق نامدار سے ملتی وہ اسے زمین پر گھسیٹتا ، مارتا پیٹتا اور اس کے منہ پر تھوک جاتا ۔ یہ دلال اسے اپنے شہر میکسیکو لے ک گیا اور اسے وہاں دوسروں کے ہاتھوں بیچ ڈالا۔ جو اسے ہر رات بازار لے کر جاتے اور صبح دس بجے واپس لاتے اگر انکار ہوتا تو اسے جان سے مارنے کی دھمکی ملتی یا پھر اس کے کسی پیارے کو مارنے کی اور مجبورا انہیں اپنی عزت بیچ کر ان کے لئے کمائی کرنی پڑتی اس کی آنکھیں زندگی سے بھرپور تھی لیکن اس کا جسم ایک مردے کا تھا جسے بھیڑیے ہر رات بھنبھوڑتے

Shutterstock.com

نہ کہی بھاگنے کی جگہ تھی نہ کہی چھپنے کی

اس بارہ سالہ لڑکی کو روزانہ 12 گھنٹے کام کرنا پڑتا 4 سال تک اس دوران اسے بھوکے درندوں کی مانند مردوں کی تسکین کرنی پڑتی 30 سے زیادہ وحشی روزانہ اس کے جسم سے لطف اٹھاتے اور کبھی تو اس سے بھی زیادہ یہ نہیں کہ اس نے کبھی بھاگنے کا سوچا نہ ہو لیکن ان کے دل میں ایسا خوف ڈالا گیا تھا کہ بھاگنے کا سوچتے ہوئے بھی گھبرا جاتی تھی ۔ اب یہی اس کی زندگی تھی اور یہی اس کا گھر

Shutterstock.com

ایک روشن صبح

اس کا یہ ڈراونا خواب بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا جب اس کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی جو اس کے لئے نئی زندگی کی نوید لے کر آئے ۔ 43 ہزار بار اس کا جسم بکا ۔ لیکن اب اس نے پختہ فیصلہ کیا تھا کہ اب وہ ان کا کھلونہ بن کر زندگی نہیں گزارے گی ۔ آج کارلا اسی تنظیم کی ممبر ہے اور اپنی جیسی مجبور اور لاچار لڑکیوں کی زندگی بچانے میں پیش پیش ہے

dailymail.co.uk
وہ کہتی ہے کہ جب میں صبح اٹھتی ہوں تو میں نہیں جانتی کہ کہ شام ہو پائےگی کیونکہ موت میرے چاروں طرف ہے لیکن میں نے جو کرنا ہے وہ کر گزروں گی

اپنا تبصرہ بھیجیں